اردو اخبار

Monday, August 24, 2020

کے پی پولیس، سندھ اور وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی سوچ اردو اخبار

0 comments

KPK and Sindh Employees

کے پی کے پولیس ملازمین

 کے پی کے پولیس ملازمین کے لیے اچھی خبر دی گئی ہے جس کے مطابق کے پی کے پولیس ملازمین کی دوران سروس یا ریٹئرمنٹ کی صورت میں ایک بیٹے کو پولیس ملازمت دی جائے گی بڑی اچھی خبر ہے خیبر پختونخواہ پولیس ملازمین کے لیے۔

سندھ میں سرکاری ملازمین:

سندھ میں سرکاری ملازمین کو سرکاری فلیٹس جلد خالی کرانے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور ان کو اس سلسلہ میں 15 دن کی مہلت دی گئی ہے

سروس رولز میں تبدیلی:

جب کہ آخری خبر ہے کہ سروس رولز میں تبدیلی کی جا رہی ہے جس کے مطابق اب وزیر اؑعظم اور متعلقہ وزیر کو اختیار ہوگا کہ کسی آفیسر کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرے جو کہ پہلے یہ اختیار وفاقی کا بینہ کے پاس تھا اب یہ اختیار وفاقی کابینہ سے لے کر متعلقہ وزیر یا سیکرٹری کو دیا جا رہا ہے۔

 وزیر اعظم عمران خان:

اسلام آباد - وزیر اعظم عمران خان اپنی حکمرانی کی جماعت کو ایک قابل عمل سیاسی ادارہ بنانے کے قابل بنانے کے لئے نوجوان خون ، تعلیم یافتہ اور بے لوث کارکنوں کو پاکستان تحریک انصاف کے گڑھ میں لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان کو 'اشرافیہ گرفتاری' سے پاک کرنا۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں اور پی ایم خان کے قریبی معتمدین کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی گفتگو نے انکشاف کیا ہے کہ عمران اور ان کے مرنے والے سخت گیر ساتھیوں نے تحریک انصاف کے اقتدار میں پہلے دو سال کی تکمیل کی بنیاد پر تشخیص کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا ہے۔

تشخیص کو بانٹتے ہوئے ، پارٹی کے ایک سینئر عہدے دار کا خیال تھا کہ عمران خان نے پارٹی کے ساتھیوں کی ایک ٹیم کو پارٹی کی پالیسیوں اور ایجنڈے کی فراہمی اور اس کے آگے لے جانے کے قابل بنانے کی کوشش کی تھی جو وزیر اعظم کی طرف سے پاکستان کو نیا پاکستان میں ڈھکنے کے لئے مرتب کی گئ تھی۔ پاکستان)۔

تاہم ، انہوں نے پر امید محسوس کیا کہ عمران خان اب سخت محنت کے بعد بہت بہتر مقام پر ہیں اور ان کی پالیسیاں اب جڑ پکڑ رہی ہیں ، اور ان کے سیاسی حریفوں کو ملک میں آئندہ کی سیاست میں سیاسی مائلیج کے لit استحصال کرنے کی کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔

نوجوان سیاستدانوں نے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی ترغیب دی

پی ٹی آئی کی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کے بارے میں ، اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ عمران خان نوجوان اور تعلیم یافتہ رہنماؤں کو آئندہ بلدیاتی انتخابات خصوصا Punjab پنجاب ، کے پی اور کراچی میں حصہ لینے کی ترغیب دے کر نچلی سطح پر پارٹی کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

ان کا پختہ خیال تھا کہ تحریک انصاف ان انتخابات میں بہترین صلاحیتوں کے حصول کے لئے جدوجہد کرے گی کیونکہ مستقبل میں قائدین پارٹی کو چلانے کے اہل ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا ، "عمران خان ایل جی پولز کے ذریعے بہترین نوجوان رہنماؤں کو حاصل کرنے کے لئے مضبوط فلٹر لگارہے ہیں۔"

مزید پڑھیے: پاکستانی ملازمین کے لیے پے ایدڈ پنشن کمشن 2020

وزیر اعظم خان نے پی ٹی آئی کے اکثریتی ایوان میں بدلنے کے لئے آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے اپنے منصوبوں پر بھی نگاہ رکھی ہے اور اس پر کام کر رہے ہیں۔

ان کے خیالات بڑی حد تک وزیر اعظم خان کے خیالات سے مطابقت رکھتے ہیں جنہوں نے ایک نجی ٹی وی کو اپنے حالیہ انٹرویو میں ملک میں حکمرانی کے لئے اپنی پارٹی کی مہارت اور تجربے کی کمی کو تسلیم کیا تھا۔ برسراقتدار پی ٹی آئی نے اقتدار کے پہلے دو سالوں میں ہی گذرا تھا ، وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کے ماڈل پر ملک کو بدعنوانی سے پاک اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے مستقبل کی سمت طے کرنے کا سہرا لیا تھا۔ انہوں نے بڑے معاشی چیلنجوں کا ازالہ کرنے کے لئے پرامید سمجھا جس میں بیرونی قرضوں کی ریٹائرمنٹ ، پنشن فنڈ تشکیل دینا اور بڑے مفاد عامہ میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔


Sunday, August 16, 2020

پاکستانی ملازمین کے لیے پے ایدڈ پنشن کمشن 2020

0 comments

 


پاکستانی ملازمین کے لیے پے ایدڈ پنشن کمشن 2020

جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ بجٹ 2020 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ نہ صرف فیڈرل گورنمنٹ نے بلکہ صوبہ پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا۔ اس طرح آزاد کشمیر میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ لیکن سندھ اور گلگت بلتستان کی حکومتوں نے اس کے بر عکس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کر کے ملازمین کو خوش کر دیا۔

مزید پڑھیے: تنخواہ اور پنشن کے بارے میں ملازمین کے لیے بڑی خبر

اس کے بعد ملازمین نے احتجاج بھی کیا لیکن ابھی تک کوئی اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس سے پہلے اپریل 2020 میں پاکستانی حکومت فنانس ڈویژن نے ایک کمشن ترتیب دیا جو 6 ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گا۔ ابھی تک 4 ماہ گزر چکے ہیں لیکن اس کمشن نے کسی قسم کی کوئی ابتدائی رپورٹ بھی پیش نہیں کی ۔

اس کے علاوہ حکومت چاہتی ہے کہ سب ملازمین کی تنخواہیں بھی برابر کی جائیں۔ مختلف محکموں میں مختلف قسم کے پے پیکجز ہیں اس لیے یہ کام بھی اسی کمشن کو سونپا گیا ہے۔

 

 

Tuesday, August 11, 2020

پاکستان میں سکول کب سے کھل رہے ہیں۔ اہم اپ ڈیٹ جاری کر دی گئی ہے

0 comments

Pakistan to reopen schools

 اردو اخبار کی جانب سے آپ کا میزبان محمد ادریس آپ کی خدمت میں حاضر ہے آج آپ کو میں بتاؤں گا کہ پاکستان میں سکول کھولے جائیں گے یا نہیں؟ گزشتہ کئی مہینوں سے کرونا وباء کے باعث نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سکول بھی بند کر دئیے گئے ہیں تا کہ بچوں کو اس موذی مرض سے بچایا جا سکے۔ اور ہمارے بچوں کو کوئی خطرہ لا حق نہ ہو۔

ناظرین و قارین اب جب کہ اگست 2020 میں اس کرونا وباء میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تو حکومت پاکستان نے 10 اگست سے کچھ فیصلے کیے اور ان پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ جیسا کہ اب سیاحتی مقام کھولنے کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے۔ پچھلے دنوں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم کی کانفرنس منعقد ہوئی اور اس کی صدارت وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود نے کی۔

 مزید پڑھیے: سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن

وزرائے تعلیم کی کانفرنس:

تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم کی کانفرنس جس کی صدارت وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود نے کی۔ اور اس میں بہت سے فیصلے کیے گئے لیکن ابھی تک سکول کھولنے یا نہ کھولنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا جا سکا۔ بلکہ یہی کہا جا رہا ہے کہ 15 ستمبر 2020 سے سکول کھولے جائیں گے اور اگر حالات موافق نہ ہوئے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تا خیر بھی ہو جائے۔

لیکن اب جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ حالات کچھ موافق ہیں اور کرونا وباء میں بھی کمی واقع ہوئی ہے تو حکومت سکول 15 ستمبر سے پہلے کھولنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔

ہم آپ کے لیے اردو اخبار سے ایسی ہی اچھی اچھی خبریں نشر کرتے ہیں لہذا آپ اس خبر کو دوسروں میں ضرور شئیر کیجیے گا اور دعاؤں میں یاد رکھیے گا شکریہ علمی لاگ

Wednesday, August 5, 2020

پی ٹی آئی حکومت کا تنخواہ اور پنشن کے بارے میں بڑی خبر

0 comments

پی ٹی آئی حکومت نے بڑی خبر سنا دی ہے۔ تنخواہ اور پنشن کے بارے میں بڑے دنوں کے بعد اچھی نوید سنا کر سرکاری ملازمین کو خوش کر دیا ہے۔ 
سب سے پہلے ناطریں آپ کو بتا دوں کہ ای او بی آئی پنشن میں اضافہ ہو چکا ہے جو کہ پہلے 5250 روپے تھی اور اب ساڑھے 8 ہزار ہو چکی ہے اسی طرح پنجاب پولیس آفیسرز کی تنخواہ بھی بڑھا دی گئی ہے۔
تنخواہ اور پنشن کے بارے میں یہ ویڈیو میں نے اپنے چینل پر بھی ڈال دی ہے جو کہ آپ اس پیج پر اوپر بھی دیکھ سکتے ہو۔

Tuesday, July 14, 2020

تنخواہ اور پنشن سرکاری ملازمین کے لیے اہم خبریں

0 comments

سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری اس ویڈیو میں لایا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گورنمنٹ نے بجٹ 2020-21 میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا اس میں فیڈرل گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب ، کے پی کے ، اے جے کے اور بلوچدتان کی حکومتیں شامل ہیں۔ اس وجہ سے سرکاری ملازمین مختلف پلیٹ فارمز پہ کام کر رہے ہیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اسی لیے اب عدالتیں بھی اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں

تو یہ بہت ہی اچھی خبر سرکاری ملازمین کے لیے آپ کو بتاتا چلوں کہ ہائی کورٹ پشاور میں جمعہ 3 جولائی کو ہونے والی سماعت جو کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے حوالے سے کی گئی یہ رٹ صوبائی صدر ایپکا حاجی اورنگزیب نے کی جس میں یہ بتایا گیا کہ عدالت نے حکومت سے جواب طلب کیا ہے جس پر حکومت وقت نے کچھ وقت مانگا ہے جس پر عدالت نے وقت دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ آپ کے پاس 20 دن کا وقت ہے اور اس بارے میں فیصلہ کر کے آئیں کہ آپ نے تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کرنا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی دلائل دینے ہوں گے کہ کیوں اس دفعہ تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کے بارے میں ایک اہم اپ ڈیٹ آپ کو دینے جا رہا ہوں اس ویڈیو میں جیسا کہ تمام سرکاری ملازمین جانتے ہیں کہ پر دفعہ ہی گورنمنٹ کی طرف سے سرکاری ملازمین کو تنخواہ اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن وقت پر ادا کی جاتی ہے اور جون 2020 کی تنخواہ اور پنشن بھی وقت سے پہلے یعنی 24 جون کو ادا کر دی گئی تھی حا لانکہ اس دفعہ کوئی بڑا ایونٹ بھی نہ تھا لیکن یہ کہا گیا کہ سرکاری ملازمینکو تنخواہ وقت سے پہلے دے کر مالی سال کو کلوز کیا جائے گا اسی وجہ سے تنخواہ اور پنشن وقت سے پہلے دی جا رہی ہے۔

اسی طرح سرکاری ملازمین کو عید الفطر سے پہلے بھی تقریباً 10 دن پہلے تنخواہ اور پنشن ادا کر دی گئی تھی تو اب جب کہ عید الاضحیٰ 31 جولائی یا یکم اگست 2020 کو ہو نے کا امکان ہے تو حکومت نے 25 جولائی تک تمام ملازمین کو تنخواہ اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن دینے کااعلان کیا ہے ۔تا کہ تمام ملازمین قربانی کے لیے جانور اور بچوں کے لیے کپڑے وغیرہ خرید سکیں اس کے علاوہ دوسری گھریلو ضروریات وقت پر پوری کر سکیں تو یہ خبر تھی آپ کے لیے امید ہے آپ کو یہ انفارمیشن اچھی لگی ہو گی تو ویڈیو کو دوسروں تک ضرور شیر کیجیے گا شکریہ

پچھلے دنوں سرکاری ملازمین کے لیے حکومت کی ظرف سے مختلف خبریں سامنے آتی رہی ہیں جس کی وجہ سے تمام سرکاری ملازمین میوس ہو چکے ہیں اور ان کا یہی خیال ہے کہ اس حکومت نے ہمارا برا حال کر دیا ہے اور زمانہ مستقبل قریب میں مزید حالت کو خراب کرنا ہے۔ تو اس پر حکومت کی طرف سے بھی حلیہ بیان سامنے آیا ہے جو کہ سرکاری ملازمین کے لیے اچھی بات ہے اور بہتر نوید حکومت کی جانب سے سنائی گئی ہے۔

تو اس حکومتی بیان کی جانب جانے سے پہلے آپ کو پہلے وہ خبریں جو آج کل آ رہی ہیں اور سرکاری ملازمین میں مایوسی چھا رہی ہے ان پہ پہلے بات کر لیں۔ تو سب سے پہلی خبر تو سرکاری ملازمین کی اس بجٹ میں تنخواہ کا نہ بڑھانا ہے اور حکومت سندھ اور گلگت بلتستان کے علاوہ تمام صوبائی اور فیڈرل حکومت نے یہی رونا رویا ہے کہ کورونا کی وجہ سے معاشی حلات درست نہیں ہیں اور اس لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ممکن نہیں۔ اس خبر سے تمام سرکاری ملازمین پہلے ہی مایوس تھے کہ ساتھ حکومت وقت نے ایک کمیٹی بنا دی اور اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔ جس کے مطابق پنشن کے لیے عمر کو کم کر کے 55 سال یا 58 سال کر نے کی تجاویز زیر غور ہیں اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین کو یکمشت ادائیگی کر دی جائے گی اورماہانہ پنشن کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس سے مزید سراکری ملازمین میں مایوسی چھا گئی ہے لیکن اس تک اکتف نہ کیا گیا بلکہ اب ایک نئی خبر بھی گردش کر رہی ہے اور وہ یہ کہ سالانہ انکریمنٹ میں اضافہ بھی نہیں کیا جائے گا بلکہ تھوڑا بہت اضافہ الاونسز میں کر دیا جائے گا جس سے ریٹئرمنٹ کے وقت کم واجبات دینا پڑیں اور حکومتی خزانہ پر زیادہ بوجھ نہ پڑھے یہ تمام بتیں جوں جوں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینٹ بنتی جا رہی ہیں اس سے مزید سرکاری ملازمین مایوس ہو رہے ہیں اور اس پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف بہت سی باتیں گردش کر رہی تھیں کہ اب جو لوگ سرکاری ملازمین میں سے اس کو سپورٹ کرنے والے تھے وہ بھی سپورٹ نہ کر نے کا کہ رہے ہیں اور یہ کہ رہے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی تمام پالیسیاں سرکاری ملازمین کے خلاف ہیں اس پر اب حکومت نے بھی زبان کھولی ہے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے جس سے سرکاری ملازمین میں کچھ خوشی بحال ہو ئی ہے

وزیر اعضم کو معاون خصوصیشہباز گل نے ٹویٹ کیا ہے کہ  


Wednesday, July 1, 2020

بجٹ کثرت رائے سے منظور

0 comments

قومی اسمبلی میں بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے اور سرکاری ملازمین کی آخری امیدیں بھی دم توڑ گئیں کیونکہ پہلے یہ ملازمین کی سوچ تھی کہ یہ بجٹ کثرت رائے سے منظور نہیں ہو گا کیونکہ اپوزیشن والے اور کچھ گورنمنٹ کے اتحادی بھی اس بجٹ کے خلاف ہیں اور ملازمین کے حق میں باتیں کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن 116 اور گورنمنٹ نے 160 ووٹ لیے اور اس طرح کثرت رائے سے بجٹ کی منظوری ہو گئی ہے اب اس کے بعد ملازمین کا رد عمل کیا ہو گا اس پہ بات کرنے سے پہلے

اب جب کہ بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے اور ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تو ایپکا جو کہ بہت ہی زبردست ملازمین کی ایسوسی ایشن ہے اس کے عہدے داروں نے احتجاج کی کال دی ہے اور اس بجٹ کی منظوری اور ملازمین کی تنخواہ اور پنشن نہ بڑھانے پر سخت رد عمل کا کہا ہے اور تمام ملازمین کی دوسری تنظیموں سے بھی رابطہ میں ہیں اور گورنمنٹ کو آنے والے دنوں میں ٹف ٹائم دیں گے ان کا کہنا ہے کہ پچھلی دفعہ بھی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ صرف کاغز کا ہیر پھیر تھا اور ٹیکس کی مد میں واپس لے لیا گیا ہے جب کہ اب اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اب دیکھیں ملازمین کی یہ تنظیمیں آ نے والے دنوں میں کیا ردعمل دکھاتی ہیں۔


سرکاری ملازمین کے لیے بہت ہی بڑی خبر لایا ہوں خصوصاً ریٹائرڈ ملازمین کے لیے جس مین آپ کو بتاتا چلوں کہ وفاقی کابینہ نے پنشنرز کی پنشن میں 2000 روپے میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے جیسا کہ آپ جا نتے ہیں کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو اضافہ نہ ہو سکا لیکن کابینہ نے پنشن کی منظوری دے دی ہے اب اس پہ بات کرنے سے پہلے ہمیشہ

تو حکومت نے اس سے پہلے ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن میں یکم جنوری 2020 سے 2000 روپے اضافہ کی منظوری وزیر اعظم عمران خان نے دی تھی لیکن کچھ ٹیکنیکل فالٹس کی وجہ سے دوبارہ ای او بی آئی پنشنرز کو 8500 کی بجائے 6500 پنشن ملنا شروع ہو گئی تھی اب اس پر تفصیلی بحث کے بعد وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اب ای او بی آئی پنشنرز کو 6500 کی بجائے 8500 پنشن ملا کرے گی جس سے ان غریب گھرانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔


Friday, May 22, 2020

بجٹ 2020-21 کی بڑی خبر سرکاری ملازمین کے لیے علمی لاگ کی طرف سے

0 comments

تو ناطرین کل بات کی گئی تھی کہ ایڈہاک ریلیف الاونس میں 10 فیصد اضافہ کی تجویز ہے جس سے سرکاری ملازمین میں سخت مایوسی چھا گئی تھی کیو نکہ اس مہنگائی کے دور میں اگر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جاتا ہے تو وہ انتہائی کم ہے اس سے پہلے بہت سی اچھی تجاویز بھی گورنمنٹ کی طرف سے سامنے آتی رہی ہیں اسی لیے اس خبر کو سن کر سخت مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ جیسا کہ ناظریں اس بات سے آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ کے پی کے اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور بلوچستان میں بھی مختلف پارٹیوں کی مخلوط حکومت ہے لیکن صرف سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے اس لیے اب یہ جو مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں اس بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ وفاق جو فیصلہ کرے گا صوبے اس چیز کو فالو کریں گے صرف سندھ گورنمنٹ کا فیصلہ وفاق سے الگ ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے اس حوالے سے آپ کو بتا تا چلوں کہ کل جو خبر آئی تھی وہ پنجاب حکومت کی طرف سے کی گئی تھی جب کہ اب مصدقہ ذرئع کا کہنا ہے کہ جب یہ بات فنانس ڈیپارٹمنٹ سے پوچھی گئی کہ اس سال معاشی حالات صحیح نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ اضافہ نہیں ہو گا اور 10 فیصد ایڈہاک ریلیف کی نوید سنائی جا رہی ہے تو اس پر ان کا یہی کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ فیڈرل گورنمنٹ کا ہو گا اور صوبے اس کے مطابق ہی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کا فیصلہ کریں گے۔


اس کے علاوہ تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کے حوالے سے 10٪ سے لے کر 50٪ تک اضافہ کے علاوہ سکیل ریوائز کی بھی بات کی جارہی ہے۔ اور ملازمین کے مطالبات ہیں جیسا کہ ویڈیو کے شروع میں آپ کو آگاہ کر چکا ہوں کہ ملازمین موجودہ ہاوس رینٹ الاونس ور میڈیکل الاونس سے بھی خوش نہیں ہیں تو اس لیے ان تمام تجاویز پر حکومت کو غور کرنا پڑے گا کیونکہ آجکل ملازمین کی تنظیم بہت ایکٹو ہے اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے مختلف بڑے ٹی وی چینلز پہ انٹر ویو دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے لیکن پھر بھی جب بات کی جائے تنخواہ اور پنشن کی تو خزانہ خالی ہونے کا جواب ملتا ہے۔


تو ناظرین جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی آیڈیل حکومت مدینہ کی حکومت ہے اور یہ سب سے پہلے لیڈر جن کو ایسی باتیں کرتے سنا گیا اور بہت سراہا جاتا ہے اور اس کو سراہا جانا بھی چاہیے کیونکہ بہت کم لیڈر ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں لیکن انتہائی افسوس سے یہ بات کر رہا ہوں کہ اس پہ عمل دیکھنے میں نہیں مل رہا اب ایک بات کو ہی لے لیتے ہیں کہ آنے والا بجٹ جو کہ جون میں پیش کیا جارہا ہے اور اس میں تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کی باتیں تو ہو رہی ہیں اسی لیے ہم ایک واقعہ جو ریاست مدینہ کا ہے اس میں کمی بیشی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے تو حضرت ابو بکر صدیق جب خلیفہ بنے اور اپنی گزر بسر کے لیے کام پر جانے لگے تو حضرت عمر رض نے فرمایا کہ آپ کدھر جارہے ہیں تو ابو بکر صدیق نے کہا کہ میں کام پر جا رہا ہوں تو اس پر حضرت عمر کا کہنا تھا کہ اگر آپ کام پر چلے گئے تو حکومتی امور کون سر انجام دے گا اس پر غور و فکر کر نے کے بعد اس وقت کی شورٰی نے ان کی تنخواہ مقرر کرنے کے لیے کہا اب تنخواہ کتنی مقرر کی جائے یہ حل طلب بات تھی جس پر حضرت ابو بکر صدیق کا کہنا تھا کہ میری اجرت اتنی رکھ دو جتنی ایک مزدور کی ہوتی ہے تو اس پر سب نے کہا کہ آپ اس میں گزر بسر کیسے کریں گے تو ابو بکر صدیق کا کہنا تھا کہ اگر میری گزر بسر نہ ہو سکی تو میں سمجھوں گا کہ مزدور کی اجرت بڑھا دینی چاہیے اور میں مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا آج کی ریاست مدینہ کی جو بات کی جاتی ہے کیا اس میں ایسا ہی ہے اور مزدور اور وزیر اعظم کی تنخواہ ایک جیسی ہے ایسا نہیں بلکہ اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اور مزدور کی تنخواہ شاید 20000 بھی نہیں بنتی جب کہ وزیر اعظم صاحب کا گزر بسر تو 2 لاکھ میں بھی نہیں ہو رہا اب اس میں بہت تزاد ہے اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو باتوں پر عمل بھی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس آنے والے بجٹ میں ضرور مزدور طبقہ کو ریلیف ملنا چاہیے

Salary Increase Budget 2020-21 Relief | Ad-hoc Relief Pay and Pension | Budget 2020-21